ibrar indian franchise hundred 134

دی ہنڈرڈ لیگ: ابرار احمد کی شمولیت پر انڈین حلقوں میں تنقید

دی ہنڈرڈ لیگ: ابرار احمد کی شمولیت پر انڈین حلقوں میں تنقید، کھیل کو سیاست سے جوڑنے کی کوشش

انگلینڈ میں کھیلی جانے والی معروف ٹی ٹوئنٹی لیگ دی ہنڈرڈ میں پاکستانی سپنر ابرار احمد کی شمولیت نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انڈین پریمیئر لیگ سے وابستہ فرنچائز سن رائزرز لیڈز کی جانب سے ابرار احمد کو خریدنے پر بعض انڈین صارفین کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جسے ماہرین کھیل کو سیاست سے جوڑنے کی ایک اور مثال قرار دے رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 27 سالہ پاکستانی لیگ اسپنر ابرار احمد کو سن رائزرز لیڈز نے تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ برطانوی پاؤنڈز (پاکستانی کرنسی میں تقریباً 6 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد) میں اپنی ٹیم کا حصہ بنایا ہے۔ سن رائزرز لیڈز دراصل انڈین پریمیئر لیگ کی فرنچائز سن رائزرز حیدرآباد سے منسلک ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ عرصہ قبل یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ آئی پی ایل سے منسلک فرنچائزز دی ہنڈرڈ میں پاکستانی کھلاڑیوں کو شامل کرنے سے گریز کریں گی۔ تاہم ابرار احمد کی خریداری نے اس تاثر کو کسی حد تک غلط ثابت کر دیا ہے۔

دی ہنڈرڈ لیگ میں آٹھ ٹیمیں شریک ہیں جن میں سے چار ٹیمیں — مانچسٹر سپر جائنٹس، اہم آئی لندن، ساؤدرن بریو اور سن رائزرز لیڈز — جزوی طور پر ان کمپنیوں کی ملکیت میں ہیں جو آئی پی ایل ٹیموں سے بھی وابستہ ہیں۔

پاکستان سے اس لیگ کے لیے مجموعی طور پر 63 مرد کرکٹرز نے رجسٹریشن کروائی تھی جن میں شاہین شاہ آفریدی، سلمان آغا، صائم ایوب، عثمان طارق اور حارث رؤف جیسے نمایاں نام شامل تھے۔ تاہم بعد ازاں کچھ کھلاڑیوں کے دستبردار ہونے کے بعد دستیاب پاکستانی کرکٹرز کی تعداد کم ہو گئی۔

اسی دوران عثمان طارق کو برمنگھم فینکس نے ایک لاکھ 40 ہزار پاؤنڈز میں اپنی ٹیم میں شامل کیا۔ برمنگھم فینکس ایسی فرنچائز ہے جس کا تعلق آئی پی ایل سے نہیں ہے۔

کوچ کا مؤقف

سن رائزرز لیڈز کے ہیڈ کوچ ڈینیئل ویٹوری نے ابرار احمد کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک منفرد اور پراسرار بولر ہیں جنھیں کھیلنا بہت سے بلے بازوں کے لیے آسان نہیں ہوگا۔

ویٹوری کے مطابق انھیں کبھی یہ ہدایت نہیں دی گئی کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو سائن نہ کیا جائے۔

انھوں نے مزید کہا کہ عالمی کرکٹ میں کئی اچھے سپنرز دستیاب تھے مگر ٹیم کی پہلی ترجیح ابرار احمد ہی تھے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ابرار احمد کی شمولیت کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض انڈین صارفین نے فرنچائز کی مالکن کاویہ مارن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کرنا مناسب نہیں۔

ایک صارف کمل شرما نے لکھا کہ سن رائزرز حیدرآباد کو شاید ملک سے زیادہ پیسے اور کرکٹ کی پروا ہے اور اس فرنچائز کا بائیکاٹ ہونا چاہیے۔

ایک اور صارف وپن تیواری نے کہا کہ ماضی میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو بھی غیر ملکی کھلاڑی کو سائن کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ابرار احمد کو ٹیم میں شامل کرنے پر لوگوں کا غصہ “جائز” ہے۔

پاکستانی صارفین کا مؤقف

دوسری جانب پاکستانی کرکٹ شائقین نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے کھیل کی جیت قرار دیا۔

کئی صارفین نے کہا کہ کرکٹ کو سیاست سے بالاتر رہنا چاہیے اور کسی بھی کھلاڑی کا انتخاب اس کی کارکردگی اور صلاحیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

ایک صارف شہریار چیمہ نے لکھا کہ ابرار احمد ایک شاندار بولر ہیں اور سن رائزرز لیڈز کو ان کی شکل میں ایک بہترین اسپنر مل گیا ہے۔

اسی طرح دیگر صارفین کا کہنا تھا کہ ابرار احمد اور عثمان طارق جیسے باصلاحیت پاکستانی کھلاڑی دنیا کی کسی بھی لیگ میں کھیلنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

کھیل اور سیاست

ماہرین کے مطابق ابرار احمد کی شمولیت کے بعد سامنے آنے والا ردعمل اس بات کی یاد دہانی ہے کہ برصغیر میں کھیل خصوصاً کرکٹ کو اکثر سیاسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ تاہم بین الاقوامی کرکٹ کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھا جائے اور کھلاڑیوں کو ان کی صلاحیت کی بنیاد پر مواقع دیے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں