ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے دوران Pakistan Navy نے سمندری تجارت کے تحفظ اور تیل کی بلارکاوٹ ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے ’آپریشن محافظ البحر‘ شروع کر دیا ہے۔
بحریہ کے مطابق اس آپریشن کا مقصد اہم سمندری تجارتی راستوں یعنی سی لائنز آف کمیونیکیشن (SLOCs) کا تحفظ اور قومی شپنگ کو بلا رکاوٹ جاری رکھنا ہے۔ ایس ایل او سی سے مراد بندرگاہوں کے درمیان وہ اہم بحری راستے ہیں جو عالمی تجارت اور بحری آپریشنز کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
پاکستانی بحریہ کا کہنا ہے کہ ملک کی تقریباً 90 فیصد تجارت سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے، اس لیے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں Pakistan National Shipping Corporation کے تعاون سے تجارتی جہازوں کی سکیورٹی کے لیے بحری جہاز تعینات کیے جا رہے ہیں جبکہ سمندری ٹریفک کی مسلسل نگرانی بھی کی جائے گی۔
بحریہ نے سوشل میڈیا پر ایک آئل ٹینکر کے ساتھ اپنے جنگی جہاز کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ Inter-Services Public Relations کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سمندری تجارت کو درپیش کثیر الجہتی خطرات کے پیش نظر دو آئل ٹینکروں کے ساتھ بحریہ کے جنگی جہاز مامور کیے گئے ہیں۔
حالیہ کشیدگی کے باعث اہم آبی گزرگاہ Strait of Hormuz سے آئل ٹینکروں کی آمد و رفت بھی متاثر ہوئی ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق ملک میں توانائی کی بیشتر مصنوعات اسی راستے کے ذریعے پہنچتی ہیں، تاہم Saudi Arabia نے متبادل راستوں کے ذریعے تین آئل ٹینکر پاکستان روانہ کیے ہیں۔
گزشتہ ہفتے پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55، 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا جبکہ تیل کی کھپت کم کرنے کے لیے ملک بھر میں تعلیمی اداروں کی عارضی بندش اور دفاتر میں اضافی تعطیلات جیسے اقدامات بھی کیے گئے۔
بحریہ کے ایک اہلکار کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر اس آپریشن کا بنیادی مقصد پاکستان کی توانائی کی ضروریات اور سمندری تجارت کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق مختلف مقامات پر آپریشنل ضروریات کے تحت فریگیٹس اور ڈسٹرائرز تعینات کیے گئے ہیں۔
اگرچہ بحریہ نے باضابطہ طور پر تعینات جہازوں کی تفصیلات جاری نہیں کیں تاہم سوشل میڈیا پر جاری تصاویر سے ایک جدید Tughril-class frigate کی موجودگی ظاہر ہوتی ہے۔ یہ چینی ساختہ جدید جنگی جہاز Type 054A/P سیریز کا حصہ ہے جسے پاکستان نے 2021 میں اپنے بیڑے میں شامل کیا تھا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ فریگیٹ فضائی، زمینی اور آبدوز خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس میں سپر سونک کروز میزائل لانچ کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے، جس سے سمندری جنگی کارروائیوں میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طغرل کلاس کے علاوہ پاکستانی بحریہ کے پاس ترک ساختہ MILGEM-class corvette جنگی جہاز اور آف شور پیٹرول ویسلز بھی موجود ہیں جن میں Yarmook-class offshore patrol vessel شامل ہیں۔ یہ جہاز طویل عرصے تک سمندر میں گشت کے لیے نسبتاً کم لاگت پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سمندری نگرانی کے لیے ہیلی کاپٹر اور میری ٹائم پیٹرولنگ طیارے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں تاکہ تجارتی جہازوں کو میزائل حملوں، خودکش کشتیوں یا بحری قزاقی جیسے خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
رپورٹ: Soon Times Correspondent










