تحریر:عاصم اقبال راجہ
بھارت خاص طور پر مودی سرکارکو امن دشمن پالیسیوں کی وجہ سے ہر بار دنیا بھر میں میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔کانگرس ہو یا بی
جے پی (BJP) ان کو بار بار شکست کے باوجود بھی ان کو یہ سمجھ نہ آ سکی کہ امت مسلمہ کی اپنی ایک تابناک تاریخ ہے اور پاکستانی قوم میں جذبہ شہادت دیکھنے کے قابل ہے جبکہ بھارت میں اس کے بر عکس موت کے خوف نے انکی نیندیں حرام کر دی ہیں۔پاک فوج کی شاندار کارکردگی اور پاکستان کی جنگی حکمت عملی دنیا بھر میں ٹاپ ٹرینڈ بن چکی ہے۔پاکستانی فضائیہ دنیا بھر میں اپنا لوہا منوا چکی ہے،اور پاکستانی جوابی وار نے مودی سرکار کا غرور خاک میں ملا دیا۔
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی بھارت کو سوشل میڈیا پر افراتفری،خوف و ہراس،بے بنیاد الزامات اور غلط افواہیں پھیلانے پر مایوسی کے سوا کچھ نہ ملا۔
”بے شک اللہ ان لوگوں کو پسند فرماتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر ایسے لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں“(القرآن قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ کی روشنی میں دس مئی کو آپریشن ’بنیان مرصوص‘ یعنی آہنی دیوار یا سیسہ پلائی دیوار کے نام سے پاکستان نے آپریشن کا آغاز کیا۔اس کے ساتھ ایک تاریخی جملہ بھی کہا گیا کہ ’ہم نے جواب کے لیے وقت بھی وہی منتخب کیا،جس وقت اس کائنات کے سب سے عظیم سپہ سالار حضرت محمد ﷺ دشمنوں پر حملہ آور ہوا کرتے تھے‘۔بھارت کی مودی سرکار کی ہٹ دھرمی کے باعث دو ایٹمی طاقتوں کے مابین کشیدگی کا آغاز 22اپریل کو ہوا تھاجب بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے،جس کا بھونڈا اور بے بنیاد الزام بھارت سرکار نے پاکستان پر عائد کیا۔اپریل میں ہونے والی یہ سازش جو کہ بھارتی سرکار نے رچائی تھی6اور7مئی کی درمیانی شب ایک فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوئی۔بھارت نے کم از کم 12فضائی اڈوں سے 80طیارے فضا میں بھیجے۔ان طیاروں میں 32رافیل،30ایس یو 30اور مختلف MIGطیارے شامل تھے،اس کے جواب میں پاکستان نے بھی 40جے10اور دیگر چینی ساختہ طیارے تعینات کیے،جو فضائی دفاع کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔بھارتی فضائیہ نے متعدد بار پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر ہر بار انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن جب انہوں نے آزاد جموں کشمیر،شیخوپورہ اور دیگر علاقوں کی شہری تنصیبات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا تو پاکستان نےOpertion
Offensive Counter Airکا آغاز کیا،اور جیسے ہی ایک اور بھارتی میزائل پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا تو پاک فضائیہ کو ائرچیف نے مکمل جوابی کاروائی کی اجازت دے دی،اس کے بعد ہونےوالی فضائی جھڑپ میں7بھارتی طیاروں کو مارگرایاجن میں رافیل،MIG29اورSU30شامل تھے کمانڈ سینٹر میں جب ان ہلاکتوں اور تباہیوں کی تصدیق ہوئی تو پاکستان میں جشن کا سماں بندھ گیاجواس خطے کی عسکری کشیدگی میں موجود مذہبی اور قومی جذبے کی جھلک پیش کرتا ہے لیکن لڑائی یہیں پہ ختم نہیں ہوئی بلکہ 9اور10مئی کو پاکستان کی جوابی کاروائی ایک نئی حکمت عملی کے تحت ’آپریشن بنیان المرصوص‘کے نام سے اگلے مرحلے میں داخل ہوئی۔پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت نے اس جوابی کاروائی کی منظوری اپنے وقت اور طریقے کے مطابق دی جس میں صرف ان علاقوں اور ان بھارتی تنصیبات کو نشانہ بنایاگیا جو جارحانہ کاروائیوں میں ملوث تھیں جب کہ شہری علاقوں کو مکمل طور پر چھوڑ دیا گیا۔محض 5سے6گھنٹوں میں پاکستانی فضائیہ نے 26اہداف کو نشانہ بنایاجن میں 15فضائی اڈے شامل تھے۔اس کاروائی میں صرف فضائی حملے نہیں بلکہ سائبر اسپیس اور الیکٹرانک وار فئیر کی تکنیکس بھی شامل تھیں،جن کے ذریعے بھارتی مواصلاتی نظام،ٹارگٹنگ سسٹمزاوروارننگ نیٹ ورکس کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔پاکستان ائیر فورس،بری فوج،نیوی نے قیادت اور عملی مہارت کے ذریعے نہ صرف اپنی اسٹرٹیجک برتری کو ثابت کیا بلکہ اپنے لڑاکا طیاروں کی جنگی صلاحیت کو ایک نئی پہچان دی۔پاکستانی سپہ سالار نے جوابی کاروائی کو اسلامی اصولوں،قرآن کریم کی آیات اور سنت رسولﷺ پر عمل کرکے تاریخ دہرائی۔افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ قومی قیادت،جملہ خیرخواہوں، محب وطن،سوشل میڈیا صارفین نے بھی حب الوطنی کی اعلی مثال قائم کی۔بھارت سرکار کو علم ہو چکا کہ پاکستانی قوم کو شکست دینا ان کے بس کی بات نہیں۔جنگ بدر کو گزرے ہوئے چودہ سو سال سے زیادہہو چکے ہیں،لیکن اس کی یاد آج بھی مسلمانوں کے ایمان کو تازہ کرتی ہے۔صدیوں بعد بھی بھارت یوم’بنیان المرصوص‘بھارت کی شکست فاش اور پاکستانیوں سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کی فتح و کامرانی کی گواہی دیتا رہے گا۔
21










