پشتون ثقافت کی ایک قدیم اور دلچسپ روایت
رپورٹ: سون ٹائمز ڈیجیٹل
خیبر پختونخوا کے تاریخی شہر بنوں سے جڑی ایک قدیم روایت “دہ ہلکانو میلہ” کے نام سے معروف رہی ہے۔ پشتو زبان میں اس فقرے کا مفہوم “بنوں کے دس حلقوں یا علاقوں کا میلہ” بتایا جاتا ہے۔ ماضی میں یہ میلہ علاقے کے مختلف قبائل اور بستیوں کے درمیان میل جول، ثقافتی اظہار اور خوشی کے اجتماع کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
تاریخی پس منظر
مقامی روایت کے مطابق بنوں اور اس کے اطراف کے علاقوں کو علامتی طور پر دس حلقوں (ہلکو) میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ انہی حلقوں کے لوگ سال میں ایک مرتبہ ایک بڑے اجتماع کی شکل میں اکٹھے ہوتے تھے۔
یہ اجتماع صرف تفریح تک محدود نہیں تھا بلکہ اسے مختلف قبائل کے درمیان امن، اتحاد اور باہمی تعلقات مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی سمجھا جاتا تھا۔
روایتی کھیل اور ثقافتی سرگرمیاں
اس میلے میں پشتون ثقافت کے مختلف رنگ نمایاں نظر آتے تھے۔ عام طور پر اس موقع پر:
-
گھڑ دوڑ
-
کشتی اور نیزہ بازی
-
روایتی پشتون رقص اَتَن
-
لوک موسیقی اور شاعری
-
زرعی اجناس اور مویشیوں کی خرید و فروخت
جیسے پروگرام منعقد کیے جاتے تھے۔ اسی وجہ سے یہ میلہ ثقافتی اجتماع کے ساتھ ساتھ مقامی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بھی بن جاتا تھا۔
نوجوانوں کی نمائشی شرکت کی روایت
بعض لوک روایات میں ذکر ملتا ہے کہ اس میلے میں خوبصورت نوجوان لڑکوں کو روایتی لباس میں سجا کر پیش کیا جاتا تھا۔ ماضی میں عوامی تقریبات میں خواتین کی شرکت محدود ہونے کے باعث بعض ثقافتی سرگرمیوں اور رقص میں نوجوان لڑکے مرکزی کردار ادا کرتے تھے۔
کچھ مقامی روایتوں کے مطابق خاندان اپنے نوجوانوں کو نمایاں انداز میں پیش کرتے تھے تاکہ دوسرے خاندان انہیں دیکھ سکیں اور مستقبل میں خاندانی تعلقات یا رشتوں کے امکانات بھی پیدا ہو سکیں۔
سماجی اور مذہبی بحث
وقت گزرنے کے ساتھ اس روایت کے بعض پہلوؤں پر مذہبی اور سماجی حلقوں میں بحث بھی پیدا ہوئی۔ بعض علماء نے خوبصورتی کی نمائش سے متعلق سرگرمیوں کو معاشرتی اقدار کے خلاف قرار دیا، جبکہ دیگر افراد اسے صرف ثقافتی روایت اور لوک تہذیب کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
جدید دور میں تبدیلی
بدلتے سماجی حالات کے ساتھ اس میلے کی شکل بھی تبدیل ہو گئی ہے۔ اب زیادہ تر ایسے اجتماعات میں کھیل، موسیقی اور ثقافتی پروگرام ہی شامل ہوتے ہیں جبکہ متنازع روایات بتدریج کم یا ختم ہو چکی ہیں۔
خلاصہ
“دہ ہلکانو میلہ” بنوں کے علاقے کی ایک قدیم ثقافتی روایت تھی جس میں مختلف قبائل کے لوگ اکٹھے ہو کر خوشی، کھیل اور ثقافت کا اظہار کرتے تھے۔ وقت کے ساتھ اس روایت کی صورت ضرور بدل گئی، لیکن یہ آج بھی خطے کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کا ایک دلچسپ حوالہ سمجھی جاتی ہے۔










