Gulf NATO Pakistan 74

خلیج میں ’گلف نیٹو‘ کا نیا خواب

گلف نیٹو کا منصوبہ زیر بحث: خلیجی اختلافات، امریکی سیاست اور پاکستان کا ممکنہ کردار

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں جاری جنگی ماحول کے درمیان ایک بار پھر خلیجی ممالک کے مشترکہ دفاعی اتحاد یعنی ممکنہ ’گلف نیٹو‘ کی بحث زور پکڑ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تجویز بظاہر خطے کی سلامتی کے لیے پیش کی جا رہی ہے، مگر اس کے راستے میں علاقائی رقابتیں، عالمی طاقتوں کے مفادات اور سیاسی اختلافات بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

حال ہی میں قطر کے سابق وزیر اعظم حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی نے خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اختلافات ختم کر کے نیٹو طرز کا ایک مؤثر فوجی اتحاد قائم کریں جس میں سعودی عرب مرکزی کردار ادا کرے جبکہ پاکستان اور ترکی کے ساتھ دفاعی تعاون بھی شامل ہو۔

یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

خلیجی ممالک کے درمیان پرانی رقابتیں

اگرچہ خلیجی ممالک مشترکہ دفاعی تعاون کی بات کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ خطے میں کئی سیاسی اور جغرافیائی اختلافات موجود ہیں۔

مثال کے طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یمن کی جنگ، تیل کی پالیسیوں اور علاقائی اثر و رسوخ کے معاملے پر اختلافات دیکھنے میں آتے رہے ہیں۔ اسی طرح قطر اور دیگر خلیجی ریاستوں کے درمیان ماضی کی کشیدگی بھی اتحاد کی راہ میں رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں کسی مضبوط فوجی اتحاد کا قیام آسان نہیں ہوگا۔

امریکہ کا کردار اور خلیجی تحفظات

ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کی سکیورٹی حکمت عملی طویل عرصے سے امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون پر منحصر رہی ہے۔ تاہم حالیہ تنازعات کے دوران بعض حلقوں میں یہ احساس بھی پیدا ہوا ہے کہ امریکہ نے خطے کے اتحادیوں کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کیا۔

اسی وجہ سے خلیجی ممالک میں یہ سوچ بھی ابھر رہی ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو زیادہ خودمختار بنانے کے لیے نئے اتحاد یا علاقائی تعاون کے راستے تلاش کریں۔

پاکستان اور ترکی کا ممکنہ کردار

اگر خلیجی ممالک واقعی کسی دفاعی اتحاد کی جانب بڑھتے ہیں تو پاکستان اور ترکی کو ممکنہ شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کی فوج پیشہ ورانہ تربیت اور عسکری تجربے کے لحاظ سے اہم کردار ادا کر سکتی ہے، خاص طور پر تربیت، کمانڈ اور دفاعی تعاون کے شعبوں میں۔ تاہم پاکستان کی اپنی سفارتی اور علاقائی حساسیتیں بھی ہیں، خاص طور پر ایران کے ساتھ سرحد اور تعلقات کے باعث وہ کسی براہ راست فوجی اتحاد میں شامل ہونے سے محتاط رہ سکتا ہے۔

اسی طرح ترکی کے پاس دفاعی صنعت نسبتاً زیادہ ترقی یافتہ ہے اور وہ خلیجی ممالک کے ساتھ مشترکہ دفاعی منصوبوں میں حصہ لے سکتا ہے۔

کیا ’گلف نیٹو‘ حقیقت بن سکتا ہے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ خلیجی ممالک مشترکہ دفاعی اتحاد کا تصور پیش کرتے رہے ہیں، مگر عملی طور پر اس کے لیے سیاسی اتفاق، مشترکہ دفاعی حکمت عملی اور مضبوط صنعتی بنیاد درکار ہے۔

موجودہ حالات میں ماہرین اس منصوبے کو زیادہ تر سیاسی تصور یا سفارتی بحث قرار دیتے ہیں، کیونکہ خلیجی ریاستوں کے درمیان اختلافات اور عالمی طاقتوں کے مفادات اس منصوبے کو حقیقت بننے سے روک سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں