اسلام آباد: حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی کسی حتمی پیش رفت کے بغیر اختتام پذیر ہوگیا، جبکہ دونوں فریق اہم سیاسی معاملات پر اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ مذاکرات میں پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی جانب مجوزہ لانگ مارچ سمیت خیبرپختونخوا میں سکیورٹی صورتحال اور دیگر سیاسی امور زیر بحث آئے۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے مذاکرات کئی گھنٹوں تک جاری رہے۔ حکومتی اور اپوزیشن وفود نے ایک دوسرے کے سامنے اپنے مطالبات اور تحفظات رکھے، تاہم دونوں جانب سے کسی حتمی مسودے یا اتفاق رائے پر دستخط نہ ہوسکے۔
حکومت کا لانگ مارچ منسوخ کرنے پر زور
مذاکرات کے دوران حکومت نے واضح کیا کہ مذاکرات میں بامعنی پیش رفت کے لیے پی ٹی آئی کو اسلام آباد کی جانب مجوزہ لانگ مارچ منسوخ کرنا ہوگا۔ حکومتی مؤقف کے مطابق احتجاج اور سڑکیں بند کرنے کی سیاست سے مذاکراتی عمل متاثر ہوسکتا ہے۔
حکومت نے خیبرپختونخوا حکومت کے انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات میں کردار اور وفاقی حکومت، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کا معاملہ بھی اٹھایا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی نے عمران خان سے ملاقات، ان کے طبی علاج، پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات اور گرفتاریوں سمیت اپنے دیرینہ مطالبات مذاکرات میں پیش کیے۔
سہیل آفریدی کا لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان
مذاکراتی عمل کے باوجود وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے پروگرام پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ 4 اکتوبر کو لکی مروت کے گاندی چوک سے شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سہیل آفریدی کے مطابق مارچ آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی کے مطالبات کے ساتھ آگے بڑھے گا۔
رپورٹس کے مطابق مارچ کے اگلے مرحلے کے حوالے سے بھی پروگرام طے کیا گیا ہے اور سہیل آفریدی نے 8 اکتوبر کو خیبر آباد پہنچنے کے بعد آئندہ لائحہ عمل دینے کا اعلان کیا ہے۔
شفقت عباس اعوان کا حکومتی بیانیے پر سوال
دریں اثنا پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور سargodha سے رکن قومی اسمبلی شفقت عباس اعوان نے مذاکرات اور حکومت کے مؤقف پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ان کے ذاتی تجزیے کے مطابق حکومت ایک طرف پی ٹی آئی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کررہی ہے جبکہ دوسری جانب پارٹی کو دہشت گردی سے جوڑنے کا بیانیہ سامنے آرہا ہے۔
شفقت عباس اعوان نے سوال اٹھایا کہ اگر پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے اور حکومت اس کے ساتھ مذاکرات کررہی ہے تو سیاسی اختلافات کو سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے بجائے اسے دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے۔
انہوں نے اپنے مؤقف کو ذاتی سیاسی رائے قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی معاملات کا حل سیاسی مذاکرات اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
مذاکرات اور مارچ آمنے سامنے
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے اختتام کے بعد سیاسی صورتحال مزید غیر یقینی ہوگئی ہے۔ ایک طرف حکومت مذاکرات کے ذریعے سیاسی بحران کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی لانگ مارچ کے اعلان سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی۔
حکومت کی جانب سے لانگ مارچ منسوخ کرنے کو مذاکرات میں پیش رفت سے جوڑا جا رہا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ اس کے مطالبات سیاسی اور آئینی نوعیت کے ہیں اور پرامن احتجاج اس کا جمہوری حق ہے۔
اب سیاسی حلقوں کی نظریں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ، لکی مروت سے قافلے کی روانگی اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان آئندہ رابطوں پر مرکوز ہیں۔ مذاکرات میں تعطل برقرار رہنے کی صورت میں آنے والے دنوں میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔










